بنگلورو2فروری (ایس او نیوز)حالیہ دنوں میں طلبہ سائنس کا مضمون اختیار کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں دکھارہے ہیں ۔ طلبہ کی ایک بڑی تعداد سائنس مضمون سے خوف کھانے لگی ہے۔ مستقبل کی زاویہ نگاہ سے یہ ایک انتہائی منفی اور پریشان کن بات ہے ۔ ان خیالات کااظہار نائب وزیراعلیٰ جی پرمیشور نے کیا ۔ جہانگر کے این ایم کے آردی گرلز کالج میں بروز جمعہ منعقدہ کرناٹک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اکیڈمی کے 11ویں سالانہ اجلاس کاافتتاح کرتے ہوئے پرمیشور نے کہا کہ سائنس مضمون کے سلسلہ میں نئی نسل دلچسپی نہیں دکھارہی ہے ۔ سائنس مضمون سے بے تو جہی یا کم دلچسپی حیران کن ہے ۔ سائنس مضمون اختیار کرنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہوگئی ہے۔ اس سے مستقبل میں سائنس اساتذہ کی قلت کا مسئلہ سر اٹھا سکتا ہے۔ دور جدید کے سائنس طلبہ کوچاہئے کہ وہ ریسرچ و تحقیقات کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں ۔ آج کے سماجی مسائل کو تحقیقات کے ذریعہ حل ڈھونڈ نکالنے کی ضرورت ہے ۔ عمدہ ریسرچ سرگرمیوں کیلئے حکومت کی جانب سے 5سے50لاکھ روپئے تک ترغیبی رقم فراہم کرے گی ۔ اس لئے ریسرچ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ہندوستان کی سائنسی تاریخ کے حوالے سے کہا کہ بھارت کے پاس سائنس کی اپنی ایک بنیاد ہے ۔ 21ویں صدی کو سائنس دور کے طو رپر دیکھا جارہا ہے ۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 30سال قبل ہمارا ملک غذائی اجناس کی پیداوار میں دوسروں پر انحصار کیا کرتا تھا ۔ لیکن آج غذائی پیداوار میں ہندوستان نہ صرف خود کفیل بن گیا بلکہ ملکی پیداوارکو برآمد کرنے کی اہلیت حاصل کرلیا ہے۔سائنس وریسرچ کے سلسلہ میں طلبہ میں بیداری لانی ضروری ہے ۔ سائنس سے متعلق زیادہ آگہی وبیداری اور ترغیب دینے کے سلسلہ میں 22علاقائی سائنس سنٹر قائم کئے جارہے ہیں ۔ اس کے ساتھ میسور میں 198کروڑ روپئے کی لاگت سے سائنس سٹی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ پروگرام میں ڈاکٹر بی وی سری کنٹھن کو کارنامہ حیات اعزاز سے نواز ا گیا ۔